ایک خاتون اور شیخ کا واقعہ
ایک خاتون نے ایک شیخ سے دریافت کیا
ایک واعظ۔ اور ایک عارفِ باللہ، خدارسیدہ میں کیا فرق ہے؟
شیخ نے جواب دیا:
واعظ آپ کو رُلاتا ہے، اور عارف آپ کو ترقی کراتا ہے، مقامات عالی پر گامزن کرتا ہے۔
واعظ آپ کو صرف نصیحت کرتا ہے اور آپ کو جذباتی بناتا ہے، اور عارف آپ کی خیرخواہی اور آپ کی تربیت کرتا ہے۔
واعظ آپ کو آپ کے گناہ کی یاد دلاتا ہے، اور عارف آپ کو آپ کے رب کے ذکر و فکر میں مشغول کردیتا ہے۔
واعظ اصلاح و تربیت کے لیے صرف الفاظ استعمال کرتا ہے، اور عارف اپنی توجہات اور ہمتِ عالی استعمال کرتا ہے۔
واعظ اسلام اور ایمان سے آگے نہیں بڑھتا، اور عارف احسان اور یقین کے سمندر میں غوطہ زنی کرتا ہے۔
واعظ آپ کو احکام کی دعوت دیتا ہے، اور عارف حضرتِ عالم الغیب والشہادہ کی بارگاہ میں حاضر کردیتا ہے۔
واعظ حفظِ معلومات اور رسمی کتابوں سے بات کرتا ہے، اور عارف تحقیق اور مشاہدے سے گفتگو کرتا ہے۔
واعظ آپ کے لیے ثبوت اور دلیلیں فراہم کرتا ہے، اور عارف آپ کی بصیرت جگاتا اور آنکھیں کھولتا ہے۔
واعظ کی نگاہ آپ کے گناہوں اور کوتاہیوں پر ہوتی ہے، اور عارف کا دل آپ کے مقام اور تقدیر پر ہوتا ہے۔
واعظ آپ کے اندر سے برائی تلاش کرتا ہے تاکہ اس کو ختم کرسکے۔ اور عارف آپ کی اچھائیاں ڈھونڈتا ہے تاکہ اُنہیں بڑھا سکے۔
واعظ کی دلچسپی اثر انگیزی اور فضا سازی میں ہوتی ہے،اور عارف کی ہمت، اہل اللہ کے مقامات اور منازل کی سمت سلوک میں ہوتی ہے۔
واعظ آپ کو ڈراتا ہے اور آپ کو خوفزدہ کرتا ہے۔اور عارف،مثل طبیبِ حاذق تسلی دیتا ہے اور آپ کے لیے امید کا دروازہ کھولتا ہے۔
واعظ مسائل اور حالاتِ زمانہ سے آپ کو دل شکستہ کرتا ہے، اور عارف آپ کے جملہ بکھراؤ کو ذاتِ واحد سے جوڑتا ہے۔ آپ کو ہر تکلیف و مصیبت ، الجھن و منتشر خیالی میں خداوند قدوس کا سہارا دیتا ہے۔
واعظ وہ کہتا ہے جو اس کے پاس ہوتا ہے اور اس کے بعد آپ کو تنہا چھوڑ دیتا ہے، اور عارف آپ کے اندر خیر کی تخم ریزی کرتا ہے اور اس کی پرورش و پرداخت کرتا ہے۔
واعظ سارا بوجھ آپ پر ڈال دیتا ہے، اور عارف آپ سے بوجھ اُتارتا ہے اور آپ کی دستگیری کرتا ہے۔
واعظ آپ کو اپنا غیر سمجھتا ہے اور عارف آپ کو اپنی جاں سمجھتا ہے، اپنی جگہ رکھتا ہے۔
واعظ آپ کو دنیا کی خرابیوں اور برائیوں پر تنبیہ و تذکیر کرتا ہے اور عارف آپ کو کائنات کے حسن و جمال اور اس میں موجود انوار و اسرار پر متوجہ کرتا ہے۔
واعظ نہ بولے تو اس کے سورج کی روشنی میں گرہن لگ جائے اور عارف خاموش رہے تو اپنی توجہ سے آپ کے باطن کو روشن کرے۔
واعظ جنتی حور و قصور کی طرف بلاتا ہے اور عارف کی ہمت، حضورِ قلب بہ بارگاہِ قدس اور رفعِ حجابات میں مصروف رہتی ہے۔
واعظ کو لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ ان پر وعظ کرے اور عارف یقین سے سرشار ہو کر اپنے نصیبہ میں اضافہ کرتا رہتا ہے۔
واعظ کثرتِ سامعین سے خوش ہوتا ہے اور عارف کثرتِ امداد میں مشغول رہتا ہے۔
واعظ اولین سابقین کی خوبیوں اور بھلائیوں کی یاد دلاتا ہے، اور عارف موجودین متاخرین کا درجۂ ایمان و احسانبڑھانے میں لگا رہتا ہے۔
مترجم: مولانا غلام مصطفیٰ ازہری انعام صفی
بانی درویش ایجوکیشن سنٹر نعمت ٹولہ چھپرہ

0 تبصرے