ہیڈ لائنز

ناقد ہمارا محسن ہوتا ہے


ناقد ہمارا محسن ہوتا ہے

از: حضور داعی اسلام شیخ ابو سعید دام ظلہ العالی

ترتیب: ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی 


ایک صاحب نے داعی اسلام دام ظلہ العالی کی ضلالت و صلح کلیت پر پرچے بانٹے کچھ دنوں بعد آنکھیں کھلی بارگاہ ناز میں حاضر ہوئے اور معافی کے درخواست گار ہوئے شیخ نے سینے سے لگایا موصوف رونے لگے شیخ‌ نے کہا یار! تم نے کیا ہی کیا ہے؟ اللہ بڑا مہربان ہے وہ ایسا کریم ہے وہ تو ابو سفیان کو بخشنے والا ہے جن کی زندگی اسلام کے خلاف جد وجہد میں گزری وہ تو ہندہ کو بخشنے والا ہے جنہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عم نامدار کا کچا کلیجہ چبا لیا تھا اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے شیخ تسلیاں دیتے جاتے اور اس بندۂ خدا کی چیخیں نکلتی جاتیں اور شیخ کے دامن کرم میں سمٹتا جاتا پوری محفل جذب و کیف میں ڈوب گئ۔

   ایک بار ایک صاحب نے کہا کہ حضور! فلاں مفتی صاحب نے آپ کے خلاف فتویٰ دیا ہے چند ثانئے خاموش رہے پھر دیر تک انتہائی اخلاص اور محبت کے ساتھ مفتی صاحب کے حق میں ہدایت توفیق کی دعائیں کرتے رہے پھر کہا ناقد ہمارا محسن ہوا کرتا ہے اگر کوئ ہمارے دامن کو داغدار بتائے تو ہمیں اس پر غصہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ اپنے دامن کو دیکھنا چاہئے اگر واقعی دامن داغدار ہے تو اسے صاف کرنا چاہئے اور اس کی راہنمائی پر ناقد کا شکریہ ادا کرنا چاہئے اور اگر دامن صاف ہے تو اللہ کے طرف متوجہ ہونا چاہئے اور اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ مولی! شکر ہے کہ ہمارا دامن کو اس تہمت کے داغ سے پاک ہے

0 تبصرے

Type and hit Enter to search

Close