ہیڈ لائنز

قرآن کا ہم بندوں سے اصل اور مرکزی مطالبہ دو چیزوں کا ہے۔ ایک ایمان اور دوسرا عمل صالح

 قرآن کا ہم بندوں سے اصل اور مرکزی مطالبہ دو چیزوں کا ہے۔ ایک ایمان اور دوسرا عمل صالح

مولانا عبید اللہ خان اعظمی خطاب کرتے ہوئے

مظفرپور (نمائندہ) 5/فروری2024. قرآن اللہ کی مقدس کتاب ہے جسے ساری انسانیت کی رہ نمائی کے لیے نازل کیا گیا ہے ۔ اس کتاب نے بندوں سے یوں تو بہت سے اعمال کا مطالبہ کیا ہے ، لیکن اگر قرآن کی بعض آیتوں کو بعض آیتوں سے جوڑ کر دیکھا جائے تو بطور خلاصہ قرآن یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن کا ہم بندوں سے اصل اور مرکزی مطالبہ دو چیزوں کا ہے۔ ایک ایمان اور دوسرا عمل صالح۔ 
اللہ کے رسول جو کچھ بھی اللہ کی طرف سے لائیں ان کو دل سے سچ مان لینے کا نام ایمان ہے۔ اور ہر اچھا کام جسے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق اللہ کو راضی کرنے کے لیے کیا جائے عمل صالح کہلاتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں اللہ پر مضبوط یقین اور حسن نیت کے ساتھ حسن عمل یہی دو چیزیں قرآن کا مرکزی مطلوب ہیں ۔ مذکورہ باتیں ہرپور مچیا مظفرپور کے اصلاح معاشرہ کانفرنس سے جامعہ عارفیہ سید سراواں الہ آباد کے نائب پرنسپل و شیخ الحدیث علامہ مفتی کتاب الدین رضوی نے کہی ۔ انھوں نے مزید یہ بھی کہا کہ ہمیں ایمان و عمل صالح کی پونجی جمع کرنے کے ساتھ ان کی بقا کی بھی کوشش کرنی چاہیے، جو کہ ہمارے برے افکار و کردار سے ضائع ہوتی رہتی ہے۔ 
جب کے خصوصی خطاب 75/ سالہ اسد الخطبا خطیب اعظم ہندوستان سابق ممبر آف پارلیمنٹ علامہ عبید اللہ خان اعظمی کا رہا ۔ اعظمی صاحب نے موت و حیات کے فلسفے پر پرمغز خطاب فرماتے ہوئے کہا کہ موت مر جانے کا نام نہیں ، بلکہ ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف چلے جانے کا نام ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یہ دنیا جس میں اس وقت ہم سانس لے رہے ہیں یہ دار العمل ہے۔ امتحان گاہ ہے۔ جہاں اللہ نے ہمیں اس لیے بھیجا ہے تاکہ یہ ظاہر ہو سکے کہ ہم میں نیکی کا ، عمل صالح کا، تقوی کا، حسن اخلاق کا ، اخلاص کا، لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف کرنے کا ، سماج میں اتحاد و محبت قائم کرنے کا پرچہ کون لکھ رہا اور کون اس کے برخلاف آپسی نفرت ، ظلم و بربریت، بے ایمانی، دکھاوا اور مکاری، بے عملی اور گناہ کا پرچہ لکھتا ہے۔ اعظمی صاحب نے مزید یہ بھی کہا کہ آج کل انسان خود کے علاوہ دوسروں کے پروپگنڈہ کی بنیاد پر بھی بسا اوقات برائیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ اور بسا اوقات کسی مرد صالح کے خلاف الزام تراشی اور بہتان بازی شروع کر دیتا ہے جب کہ قرآن کا دوٹوک حکم ہے کہ جب بھی کوئی فاسق تمہارے پاس کسی کے خلاف کوئی نامناسب بات لے کر آئے تو کمال انتہا تک پہنچ کر تحقیق کیے بغیر ہرگز اس کی بات نہ مانو کہ کہیں آگے شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ جب بھی کہیں کوئی کسی کے خلاف کوئی بات کہتا ملے، کسی کا ایمان ناپتا ملے، کسی کا مسلک اور دین ناپتا ملے تو ہزگز اس کی بات پر یقین نہ کرنا خواہ وہ کیسا ہی مذہبی لبادہ اوڑھے ہوئے ہو۔ کیوں کہ دین رسول اللہ کا کلمہ پڑھنے اور ان کے طریقے کو اختیار کرنے کا نام ہے نہ کہ کسی اور کے۔ 
ہرپور مچیا میں یہ پروگرام معروف سماجی کار کن الحاج ریاض الدین صاحب نے اپنے والد محترم الحاج عبد الرشید مرحوم کے فاتحہ چہلم کے موقع پر منعقد کیا تھا ۔ اس پروگرام کی سرپرستی عصر حاضر کے معروف چشتی صوفی عارف باللہ داعی اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی ادام اللہ ظلہ علینا سجادہ نشین خانقاہ عارفیہ سید سراواں الہ آباد نے فرمائی۔ صدارت صاحب زادہ گرامی مولانا حسن سعید صفوی نے کی۔ پروگرام کی ابتدا فاضل جامع ازہر مصر مولانا حافظ شاہد ریاض ازہری کی تلاوت قرآن سے ہوئی۔ اس کے بعد سہسرام سے تشریف لائے مداح رسول جناب سید حسن طالب نے حمد و نعت سے سامعین کو محظوظ کیا ۔ ابتدائی خطاب مولانا اظہار احمد ازہری مئو کا ہوا ۔ 
اس پروگرام میں علاقائی علما و ائمہ کے علاوہ نواسہ حافظ ملت مولانا فیضان عزیزی مراد آباد، مولانا غلام مرتضی جمو کشمیر ، نبیرہ امین شریعت مولانا طارق رضا قادری ، مولانا محبوب سعیدی آرہ، مولانا غلام غوث عارفی ،مفتی آفتاب رشکِ مصباحی ، مولانا گل بہار مصطفائی ، مولانا شہنواز، ڈاکٹر حافظ قاسم رضوی دامودر پور ،مولانا انیس قادری، مولانا نور الحسن قادری، بشیر سردار وغیرھم خصوصیت کے ساتھ شریک رہے ۔ 
اعظمی صاحب کے خطاب کے بعد الحاج ریاض الدین صاحب نے اپنے مندوبین و حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آیندہ کے منصوبے پر بھی روشنی ڈالی۔ اس پروگرام کی نظامت ڈاکٹر مفتی مجیب الرحمٰن علیمی نے کی۔ اخیر میں صلاۃ و سلام اور حضور داعی اسلام کی دعا پر اس مجلس کا اختتام ہوا بعدہ ماحضر سے سامعین کی ضیافت بھی کی گئی ۔

0 تبصرے

Type and hit Enter to search

Close