بھارت آزادہے۔ مگر، کیا ہم بھارتی بھی آزاد ہیں؟
آزادی، سننے میں کتنا اچھا لگتا ہے۔ لیکن یہ ہم بھارتیوں کو کس طرح ملی ؟ اسے آج کون یادرکھتا ہے؟ آزادی کا مفہوم کیا ہے؟ ایک آزاد ملک کی خصوصیات کیا ہیں؟ یہ سب چیزیں جیسے ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔ ہماراوطن عزیز جہاں صدیوں سے ہم سب مل جل کر زندگی گزار رہے ہیں، خوش حالی کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ ہماری اس خوش حالی اورخیر سگالی کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔ ایک بارپھر ہم اس انگریزی دور میں واپس ہو رہے ہیں جہاں اپنے مفاد کے لیے کسی کی جان ، مال ، عزت، آبرو کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ مفاد کے راستے میں جو بھی رکاوٹ بننے کی کوشش کرتا فردہو یا جماعت اس کی نہ صرف زندگی، بلکہ موت کو بھی عبرت بنا دی جاتی تھی۔ جی! یہ کہانی نہیں ، تاریخی حقیقت ہے۔
1613ءمیں انگریز تاجروں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی داغ بیل ڈال کر سورت سے اپنی تجارت کا آغاز کیا۔ 1662ء تک ممبئی اور اطراف ممبئی میں اپنا اچھا خاصہ اثر و رسوخ قائم کر لیا۔ انگریز کمپنی کے ابتدائی زمانے ہی سے اپنی ایک مسقتل فوج بھی رکھتے رہے جس میں 1700ء تک اچھا خاصہ اضافہ ہو گیا ۔ 1757ء میں پلاسی کی جنگ میں نواب سراج الدولہ کو شکست دے کر بہار، بنگال اور اڑیسہ پر ایک طرح کا قبضہ جما لیا۔ اس کے بعد ایک ایک کر کے ان چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں کو نگلنا شروع کیا جو ان کے جھانسے میں آ کر مغل سلطنت سے بغاوت کر کے اپنی خود مختاری کا اعلان کر چکی تھیں۔ حکومتی اورعلاقائی سطح پر انگیزوں کی مضبوط ہوتی گرفت نے انھیں ظلم پر ابھارا جس کی وجہ سے ان تن کے گوروں اور من کے کالوں نے ہر چہار جانب ظلم کرنا شروع کر دیا۔ اپنے مفاداور حکومت کی خاطر بھارتیوں پر بیجا تشدد شروع کیا۔ جو اُن کے تابع ہوئے نانِ شبینہ کے بدلے ان سے جان توڑ محنت کرواتے۔ اور جو لوگ کسی طرح اطاعت گزاری سے انکار کرتے یا پیچھے ہٹتے انھیں عام شاہ راہوں پر پھانسی دے کر لٹکتے چھوڑ دیتے۔ 1857ء کے بعد تو دہلی ،کانپور اور دیگر بڑے شہروں میں بھارتیوں کی لاشیں کثرت سے درختوں پرلٹکتی ملتیں۔ اپنی آزادی کی جنگ لڑنے والوں کو باغی بتا کر ان کے علاقوں،بستیوں اور گھروں کو نذر آتش کیا جاتا۔ یہاں کے لوگوں کو معاشی سطح پر کمزور کرنے کے لیے پہلے کاریگروں کے ہاتھ کاٹے گئے، بعد میں یہاں کی معیشت پر پابندی لگائی گئی اور اپنی تجارت کو فروغ دیا گیا۔ ان سب حالات نے مجبور کیا کہ ملک عزیز کو انگریزوں سے آزاد کرایا جائے۔ اورپھر بلا تفریق مذہب و ملت سارے بھارتیوں نے ہزاروں لوگوں کی قربانیاں دے کر 1947ء میں ملک کو آزاد کرا لیا۔
ملک آزادہوا تو 2 سال، 11 مہینے، اور 18 دن لگا کر ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی صدارت میں بھارت کا آئین تیار کیا گیاجسے آئین ساز اسمبلی نے 26 نومبر 1949 کو منظوری دی ، اور یہ 26 جنوری 1950 کو نافذ گیا۔آئین سازی میں اس بات کا خصوصی خیال رکھا گیا کہ یہاں کے تمام شہریوں کو مکمل ا ٓ زادانہ اور عزت دارانہ زندگی جینے کی ضمانت ملے۔چناں چہ ذات پات، رنگ و نسل، جنسیت و علاقائیت کسی بھی سطح پر امتیاز برتنے کی ممانعت اور تمام ترمساوات کے ساتھ ہر طرح کے کار و بار، تعلیم اور پیشہ سے جڑنے کی آزادی دی گئی۔ اقلیتوں کی زبان،ثقافت،تہذیب اور مذہب کی حفاظت کو یقینی بنایا گیا اورکسی بھی نام پر کسی کا بائکاٹ کرتے ہوئے قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں دی گئی۔ اپنے اپنے مفادات سے اوپر اٹھ کر ملک،ملکی مفاد و سالمیت اور یہاں کے تمام شہریوں کی جان، مال،عزت، آبرو کی حفاظت کو اولیت دی گئی۔ جس کے نتیجے میں یہ ملک ایک ایسا جمہوری ملک بن کر سامنے آیا جس کی گنگا جمنی تہذیب اورتمام مذاہب کے ماننے والوں کے آپسی اتحادو محبت نے پوری دنیا کو اپنی جانب متوجہ کیا ۔ لیکن گزرتے وقتوں کے ساتھ یہاں کی گنگا جمنی تہذیب دھندلی اور آپسی محبت نفرت میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ آج بھی اکثریت ایسے ہی لوگوں کی ہے جو آپسی بھائی چارے اور گنگا جمنی تہذیب ہی میں ملک کی سالمیت کو دیکھتے ہیں اور ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ ہمارا ملک کسی بھی طرح کے فرقہ وارانہ فسادات اور آپسی نفرتوں کا شکار نہ ہو۔ مگر گزشتہ کئی عشرے سے مخصوص طبقے کے خلاف جس طرح کا ماحول بنایا جا رہا ہے اور جس طرح ہر موڑ پر انھیں ٹارچر کیا جا رہا ہے یہ وطن عزیز کے لیے نیک فال نہیں ہے۔ آپ دیکھیں ! پہلے سکھوں کے خلاف اور اب مسلمانوں کے خلاف کیا کچھ نہیں کیا جا رہا ہے۔ ان کی معیشت ، ان کے کار و بار، ان کی تجارت، بلکہ بعض مذہبی رسومات پر بھی رفتہ رفتہ پابندیاں لگ رہی ہیں۔وہیں دوسری جانب اکثریتی طبقے کو ان سب چیزوں کے لیے خاص طور سے مذہبی رسم و رواج کی بجا آوری کے لیے حکومتی تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ قانون کی بالادستی اور اس کا منصفانہ نفاذ کسی بھی ملک کی سالمیت کے لیے لازمی ہوتا ہے۔ مجرم خواہ کوئی ہو اگر اس کا جرم ثابت ہو جاتا ہے تو اسےاس کے جرم کے مطابق قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔ مگر، یہاں حالات یہ ہیں کہ ایک مخصوص طبقے کے خلاف صرف الزام ہوتا ہے،ابھی جرم ثابت بھی نہیں ہوتا کہ اس کا مکان زمین دوز کر دیا جاتا ہے۔ حکومتی املاک کو نقصان پہنچانے اور ملک کے امن کو خراب کرنے کے الزام میں سیکڑوں نوجوانوں کو اٹھا کر جیل بھیج دیا جاتا ہے جہاں ان کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔ وہیں دوسری جانب ماب لنچنگ کے نام پر آئے دن کسی نہ کسی کو مار رہے ہیں، کسی خاتون کی اجتماعی عصمت دری کر رہے ہیں،مذہبی رسومات کی انجام آوری کے بیچ لاکھوں کا حکومتی اور عوامی املاک کا نقصان کر رہے ہیں – کوئی گرفتاری نہیں،کوئی سزا نہیں۔بلکہ، حکومت کے اعلی عہدے داران ایک لفظ تک ان کے خلاف بولنے کو تیار نہیں۔ ایک جانب ایک طبقے کو یہ کھلی آزادی دوسری جانب دوسرے طبقے پر وہ خوف طاری کہ سفر ہو یا حضر، تنہائی ہو یا بھیڑ ہر جگہ اپنی جان مال اور عزت و آبرو کا کھٹکا۔ کیا یہی آئین پرستی ہے؟ یہی ملکی آزادی ہے؟ اسی کے لیے ہمارے اسلاف نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ہمیں آزادی دلائی تھی؟ گاندھی جی سے لے کر مولانا ابو الکلام آزادتک اور شہید بھگت سنگھ سے لے کر شہید اشفاق اللہ خان تک نہ جانے کتنے لوگوں کی جد و جہد کا نتیجہ ہے یہ آزادی۔ 299 لوگوں نے مل کر 2 سال، 11 مہینے، اور 18 دن لگا کر ان ہی سب حالات کے لیے آئین بنایا تھا؟ کیا اس آئین نے یہاں کے شہریوں کو مکمل مساوات کے ساتھ آزادانہ زندگی گزارنے کی آزادی نہیں دی تھی؟کیا ہمارے بزرگوں نے آئین بنا کر ہمیں نہیں بتایا تھا کہ یہاں کا جو بھی شہری جس طرح چاہے کسی کی جان مال، عزت آبرو کو نقصان پہنچائے بغیر رہ سکتا ہے؟ جو چاہے کھا سکتا ہے، جو چاہے پہن سکتا ہے، جو کار و بار یا پیشہ اپنانا چاہے اپنا سکتا ہے، جس مذہب پر عمل کرنا چاہے کر سکتا ہے، جو تعلیم لینا چاہے لے سکتا ہے؟
کھانے پینے، پہننے اوڑھنے، رہنے سہنے، کار و بار، تعلیم و تعلم،مذہبی رسوم و رواج، کہیں آنا جانا ہر قسم کی آزادی ہر ایک شہری کو حاصل ہوگی۔ کیا یہ اس آزادانہ ملک کی خصوصیات نہیں تھی؟تھی، بلکہ ہے۔ تو آخر پھر کیوں کسی کے مذہبی رسم و ر واج اور دیگر چیزوں کو لے کر اس قدر نفرتیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ ایک بڑا طبقہ ایک مخصوص طبقہ کو دیکھنا نہیں چاہتا؟ کیا یہ رویہ ملک کی آزادی اور سالمیت کے لیے درست ہے؟ آپ خود سوچیں ہمارا ملک کس راہ پر چل پڑا ہے؟ ایسے حالات میں جو بھی لوگ جس سطح سے بھی نفرت کا کار و بار کر رہے ہیں انھیں محبت کا سبق سکھانا ہوگا۔ ملک کی اس اکثریت کو جو آج بھی محبت کو گلے لگائے ہوئے ہے اور ملک کی آزادی اور سالمیت کےلیے گنگا جمنی تہذیب کو باقی رکھنے کے خواہاں ہیں انھیں آگے آنا ہوگا۔ ایک نئے عزم ، نئے ارادے کے ساتھ اور پوری ذمہ داری کے ساتھ جس طرح ہمارے اسلاف نے انگریزوں کے چنگل سے ملک کو آزاد کرایا تھا اسی طرح ان فسطائی طاقتوں سے ، ان کی نفرتی سوچ سے یہاں کے شہریوں کو آزاد کرانا ہوگا۔ ہر سطح سے ، ہر موڑ پر، ہر انداز سے ایک ایک شہری کے دل و دماغ میں یہ بات بیٹھانی ہوگی کہ ملک کی آزادی نفرت سے نہیں، محبت سے باقی رہےگی۔ ملک کی ترقی ظلم و فساد سے نہیں، امن و امان سے ہوگی۔اور یہ کہ جب تک یہاں کا ایک ایک شہری خودکو ہراعتبار سے آزاد محسوس نہ کر لے ہم فسطائی طاقتوں اور ان کی نفرتی سوچ کے خلاف لڑتے رہیں گے۔ اور اگر ہم یہ نہیں کر سکتے تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ جس ملک کے ساتھ آزادہونے کا لیبل 77/ سالوں سے لگا ہوا ہے ، اتنے عرصے کے بعد بھی کیا واقعی ہم آزادہیں؟کیا یہاں کا ہر شہری آزادہے؟ ملک میں بے روز گاری عام ہوتی جا رہی ہے ، اچھے کار و بار اور کارخانوں کی کمیاں ہیں، بیماروں کے حساب سے ہاسپیٹلز نہیں ہیں۔لوگ بھوک مری کے شکار ہو رہے ہیں۔ کسان اور مزدور ہر طبقہ مصیبتوں میں گرفتار ہے۔ مہنگائی آسمان چھو رہی ہے۔ اچھی تعلیم اور اعلی تعلیم کا بہتر انتظام کم ہے۔ان سب چیزوں پر توجہ دینے کی بجائے ہمیں نفرتوں کا خوگر بنایا جا رہا ہے۔ اور ہم بھی بڑے بھولے ہیں ، بڑی آسانی سے نفرتوں کے شکار ہو ئے جا رہے ہیں۔ مگر آج اگر اس سے باہر نہیں نکلے تو کل یہ نفرت کی آندھی ہمیں بھی تباہ کر کے چھوڑےگی جیسا کہ انگریزوں نے مغلیہ حکومت سے بغاوت کر نے والوں سے پہلے تعلقات استوار کیے، انھیں خودمختاری پر ابھارا اوراخیر میں ایک ایک کر کے انھیں ہی صاف کر دیا۔
آفتاب رشک مصباحی | شعبہ فارسی ، بہار یونی ورسٹی، مظفرپور

0 تبصرے