تفہیم جہاد
جہاد وقتال کے قرآنی مفہوم کی تحقیق وتعبیر
ڈاکٹر ذیشان مصباحی صاحب کی تصنیف ’’ تفہیم جہاد‘‘ حال ہی میں
خسرو فاونڈیشن نئی دہلی سے شائع ہوکر منظر عام پر آئی ہے جو اپنے موضوع پر
انتہائی علمی،تحقیقی اورمعلوماتی ہے یہی وجہ ہے کہ اہل علم و دانش نے اس کی خاطر
خواہ پذیرائی کی ہے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر
صاحب کی متعدد علمی و تحقیقی کتب اس سے قبل بھی شائع ہوکر ارباب علم و دانش سے
خاطر خواہ قبولیت حاصل کر چکی ہیں، ان میں مسٔلہ تکفیر اور الموسیقی فی الاسلام
خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ڈاکٹر صاحب جس بھی
موضوع پر قلم اٹھاتے اور خامہ فرسائی کرتے ہیں بلا مبالغہ اس کا حق ادا کر دیتے
ہیں۔ بلا شبہہ الله رب العزت نے آپ کو بے پناہ علمی، تحقیقی اور تصنیفی صلاحیتیں
اور استعداد عطا کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی آپ کے اسلوب میں جو پاکیزگی اور طہارت ملتی
ہے وہ بھی قابل تعریف اور لائقِ رشک ہوتا ہے۔ آپ جو بھی دعویٰ کرتے ہیں اس کے لیے
مناسب دلیلیں بطریق احسن پیش کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کی فکر اورآپ
کے نظر یے سے اختلاف رکھنے والا بھی آپ کے موقف کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے،
اس لیے کہ آپ کی تحریروں میں آپ کا خلوص کوٹ کوٹ کر پایا جاتا ہے۔ نیز آپ کے دلائل
کافی مضبوط ہوا کرتے ہیں۔
موجودہ عہد میں موضوعِ جہاد کے تعلق سے کچھ اپنوں اور کچھ غیر
وں نے مل کر جو گل کھلاۓ ہیں اور نتیجتاً جوصورت حال پیدا ہوئی
ہے، اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے قرآن و
حدیث کی روشنی میں جہاد و قتال کے صحیح
مفہوم کو سمجھنے اور سمجھانے کی جو کامیاب کوشش کی ہے نیز اس کے تمام تر جزئیات
پرجو مدلل بحث کی ہے وہ قابل ستائش بھی ہے
اور لائقِ عمل بھی۔آپ کا انداز بیان بھی ہر طرح کے نقائص سے پاک حد درجہ عالمانہ اور محققانہ ہے۔اس کے مطالعہ سے ہمیں موضوع کے تعلق سے ایک
جہانِ تازہ کا احساس ہوتا ہے اور بہت سی غلط فہمیاں بھی دور ہوتی ہیں جواہل ایمان
اور غیر اہل ایمان کے ذریعے دانستہ یا
نادانستہ پیدا ہو گئی ہیں۔
بندۂ ناچیز نے اس کتاب کے شروع کے تین چار ابواب اور بقیہ ابواب کے چیدہ چیدہ مقامات کا مطالعہ کیااور پایا کہ واقعی ڈاکٹر صاحب کی یہ ایک عمدہ اور گراں قدر علمی و تحقیقی محنت ہے۔ الله تعالیٰ اس علمی کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے اور تمام مسالک و مکاتب کے علمی طبقات میں مقبول بناۓ۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
محمد الیاس عارفی | گورکھ پور

0 تبصرے