علامہ ڈاکٹر علیم اشرف جائسی کی خانقاہ عارفیہ آمد
مختصر نشست / شذراتِ گفتگو
میری خوش قسمتی کہ میں خانقاہ عارفیہ میں حاضر تھا کہ آج ہی
حضرت علامہ ڈاکٹر سید علیم اشرف جائسی صاحب (صدر شعبہ عربی، مولانا آزاد نیشنل
یونیورسٹی، حیدر آباد) خانقاہ تشریف لائے، نمازِ جمعہ میں تقریر بھی آپ نے
فرمائی۔ نماز اور کھانے سے فراغت کے بعد ایک ڈیڑھ گھنٹہ خانقاہ رُکے ۔ اس موقع پر
آپ نے بعض اساتذہ اور بعض خانقاہوں کے طلبہ جو جامعہ عارفیہ میں زیر تعلیم ہیں،
اُن سے مختصر ملاقات فرمائی۔
اس موقع پر آپ نے بڑی قیمتی باتیں نصیحت کیں، آپ نے فرمایاکہ
آج ہم مسلمانوں اور بالخصوص علما کی حالت ناگفتہ بہ ہے، آپ نے کہا کہ العالَم
متغیر ولکن العالِم لایتغیر (دُنیا متغیر ہے لیکن عالِم غیر متغیر ہے)، اسی لیے ہم
مین اسٹریم سے کٹے ہوئے ہیں۔ عربی جملہ پر بعض حاضرین متبسم ہوئے تو آپ نے فرمایا
کہ بات ہنسنے کی نہیں بلکہ یہ ایک سائنسی حقیقت ہے، نیوٹن نے کہا ہے کہ ایک چیز
متغیر ہے اور دوسری غیر متغیر تو دونوں میں تبائن رہنا یقینی ہے،دونوں کا ملنا
محال ہے، وہی آج ہماری حالت ہے، دنیا کہاں پہنچ گئی اور ہم وہیں کے وہیں ہیں۔ آپ
نے طلبہ کی کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ ہمیں اہلِ وطن کی اس بات کو غلط ثابت
کرنا ہے کہ مسلمان علم و ترقی کے اصل دھارے سے ہٹے ہوئے ہیں۔
آپ نے طلبہ کو نصیحت فرمائی کہ آپ لوگ خوب دل لگا کر پڑھو
اور علم کے لیے خود کو وقف کر دو، آپ نے کہا کہ علم بہت غیرت مند ہے، اگرآپ اس
کی قدر نہیں کرو گے تو یہ آپ کی دسترس سے نکل جائے گا، علم ایسے حاصل نہیں ہوتا
اس کے بہت ناز نخرے آپ کو برداشت کرنا ہوں گے۔ آپ نے موبائل پر وقت صرف کرنے سے
بچنے کی بھی نصیحت فرمائی، نیز فرمایا کہ ایک ہے انفارمیشن اور ایک ہے نالج، دونوں
میں ایک فرق ہے، عموماً طلبہ اس میں فرق نہیں کرتے، اسی لیے غلط فہمی میں رہتے ہیں
کہ ہم تو موبائل سے بہت نالج لیتے ہیں، حالاں کہ وہ نالج نہیں بلکہ انفارمینش ہے،
اس میں نازک فرق یہ ہے کہ نالج یا علم ایک پروسیسڈ
(processed) انفارمیشن ہے جب کہ اطلاعات و انفارمیشن غیر
پروسیسڈ نالج یا علم ہے۔ آپ نے کہا کہ میں اپنے طلبہ سے کہتا ہوں کہ آپ کو
انفارمیشن مجھ سے زیادہ ہوگی لیکن نالج میری زیادہ ہے۔
آپ نے فرمایا کہ آج مسلمانوں کی خیر و اصلاح اہلِ سنت پر
منحصر ہے اور اہل سنت کی خیر و صلاح اہلِ تصوف و خانقاہ پر، لیکن ہماری حالت یہ
ہےکہ خانقاہوں سے علم اُٹھتا جارہا ہے،ہم اپنے تراثِ مشائخ کی بھی حفاظت نہیں کر
پارہے ہیں، کتنے افسوس کی بات ہے کہ لطائفِ اشرفی کا ایک بھی محَقق نسخہ ہمارے
نہیں ہے، حضرت شیخ سعد خیرآبادی کی مجمع السلوک بھی اب محَقق اور مطبوع ہوئی ہے
پانچ سو سال بعد، وہ بھی آپ خانقاہ عارفیہ والوں نے کر دی۔ لیکن بلگرام پہنچ
جائیے تو ہم نے اب تک حضرت میر غلام علی آزاد بلگرامی کے دسوں دیوان تک شائع نہیں
کیے ہیں، وجہ یہ ہےکہ جو تحقیق کر کے شائع کر سکتے ہیں اُن کو اُن مضامین سے دل
چسپی نہیں، وہ عموماً تصوف سے بیزار ہیں اور جن کو اُن مضامین سے دل چسپی ہے، تصوف
سے دل چسپی ہے وہ علمی طور پر اس حالت میں نہیں کہ اُس کی تحقیق کریں، اُسے شائع
کریں۔
اس پر ایک فاضل محترم نے کہا کہ اہل سنت کے ایک تعلیمی ادارے
میں جب نصابِ تعلیم کی ترتیب چل رہی تھی اور اس کے لیے باضابطہ مجلسِ علما منعقد
تھی، وہاں نصاب دیکھ کر ایک صاحبِ علم شخصیت نے شکوہ کیا کہ عظیم صوفی شخصیت کے
نام پر ادارہ اور تصوف کی ایک کتاب بھی شاملِ نصاب نہیں، کم از کم رسالہ قشیریہ ہی
شامل کیا جائے، اس پر ایک معروف مدرسہ کےنہایت بزرگ مفتی صاحب نے کہا کہ یہ کس فن
میں ہے۔ اس پر علامہ جائسی نے فرمایاکہ کبھی فرصت ملی تو ایسی تُراث بیزاری کی
درجنوں مثالیں میں سنا سکتا ہوں، آپ نے فرمایا کہ باستثناے علم وفضل ہمارے سنی
مدارس اور علماے مدارس بھی اپنی جڑوں سے اتنے زیادہ کٹے ہوئے ہیں۔
آپ نے فرمایا کہ پدماوت جو حضرت مَلِک محمد جائسی کی کتاب ہے،
یہ دراصل سلسلۂ اشرفیہ کی تعلیمات پر مشتمل ایک رمزی تصنیف ہے اور اَودھی زبان
میں ہے لیکن آج نہ اَودھی زبان کے صحیح جانکار ہمارے پاس ہیں اور نہ اس طرح کے
تراث کے صحیح قدردان، ضرورت ہے کہ ہم سے کوئی اودھی زبان سیکھے اور ایسے چیزوں پر
کام کرے اور اُنہیں محفوظ کرے، آپ نے فرمایاکہ آج مخطوطات پر بالکل بھی کام نہیں
ہو رہاہے، یا نا کے برابر ہو رہا ہے، جب کہ ہمیں اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
اہل سنت کے داخلی انتشار کے تعلق سے آپ نے فرمایا کہ بہت
افسوس ناک صورتِ حال ہے، لیکن اندھیرے کو رونے کے بجاے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے حصہ
کا چراغ چلا دیں ورنہ کل ہماری نسل ہمیں کوسیں گی کہ ہم اپنے زمانے کا کام بھی نہ
کر سکے، ہم اپنے ہاتھ کی چیزیں بھی محفوظ نہ کر سکے۔ آپ نے فرمایا کہ مدارس اور
خانقاہ کا گیپ ۱۸۵۷ھ
یا اُس سے کچھ پہلے سے شروع ہوا اور اس کے بہت برے نتیجے سامنے آئے۔
رفض و نصب نام سے برپا موجودہ فتنہ کے تعلق سے فرمایا کہ کوئی
ناصبی نہیں ہے اور کوئی رافضی نہیں ہے، یہ آپس میں لڑنے کے لیے ایک دوسرے کے خلاف
تہمتیں گڑھ لی گئی ہیں، البتہ اگر کوئی انتہا پسند ہے تو ہمیں اس سے کنارہ رہنا
چاہیے۔ لیکن جب ایک شخص ضروریاتِ دین پر ہے تو اُس سے اُس کا ایمان نہیں چھینا
جاسکتا۔ آپ نے کہا کہ ہم نے علم کو بطورِ ہتھیار ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنا
شروع کر دیا ہے، ہم گالیوں کو جواز فراہم کرنے لگےہیں اور دلیل میں حضرت ابوبکر
رضی اللہ عنہ کا ایک قول ذکر کیا جاتا ہے، یہ بھی نہیں سوچا جاتا کہ اُنہوں نے ۶۳ سال کی عمر میں صرف ایک بار ایک
کلمہ کہا اور ہم ہر دن ۶۳
بارزبان سے خراب کلمات نکالتے ہیں۔
آپ نے فرمایا کہ مجھ سے ایک بار کسی نے پوچھا کہ موجودہ صدی
کا مجدد کون ہے، میں نے کہا کہ ہم اس کے مکلف نہیں کہ اس کا پتا لگائیں، کسی کو
نامزد اور متعین کریں، جو ہوگا وہ اپنی جگہ اپنا کام کر رہا ہوگا، ہمیں اپنا کام
کرنا چاہیے۔ آپ نے طلبہ کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں عربی و انگلش پر سخت
محنت کرنا چاہیے، مگر ہماری حالت یہ ہے کہ ہم صحیح سے اُردو میں بھی اپنا مافی
الضمیر ادا نہیں کر پاتے، کم از کم اردو ہی ہماری اتنی اچھی ہو جائے کہ ہم اس میں
اپنا مافی الضمیر ادا کر سکیں۔ پھر جو طلبہ جامعہ ازہر جاکر صرف عربی پر فوکس کرتے
ہیں اُنہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ عربی ایک زبان اور ایک آلۂ تعبیر ہے وہ اصل علم
نہیں، علم ہمیں الگ سے حاصل کرنا ہوگا۔ مسلمانوں میں نظریاتی اختلافات کے تعلق سے
آپ نے کہا کہ داخلی اختلافات میں جنگ جیتنے کی نہیں، جنگ ٹالنے کی ضرورت ہے۔
اس مختصر نشست کے بعد حضرت نے مزار پاک پر حاضری دی اور جامعہ
عارفیہ کی لائبریری، دار الافتا، میڈیا سینٹر وغیرہ کا سرسری جائزہ لیا، اُس کے
بعد رخصت ہو گئے۔
ناصر رامپوری مصباحی | ۲۳ اگست ۲۰۲۴، جمعہ

0 تبصرے