وجودِ باری تعالیٰ پر تاریخی مناظرہ
کانسٹی ٹیوشن کلب دہلی میں فکری معرکہ، اسلام کی فکری برتری نمایاں
نئی دہلی، ۲۰؍ دسمبر: (محمد اللہ قیصر کی خصوصی رپورٹ)
دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں وجودِ باری تعالیٰ کے موضوع پر منعقد ہونے والا مناظرہ فکری، دینی اور علمی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس تاریخی نشست میں معروف شاعر و نغمہ نگار جاوید اختر اور ممتاز عالمِ دین مفتی شمائل عبداللہ ندوی کے مابین سنجیدہ، طویل اور فکری مکالمہ ہوا، جسے حاضرین اور ناظرین نے ایک اہم فکری سنگِ میل قرار دیا۔
مباحثے کے آغاز میں ہی مفتی شمائل عبداللہ ندوی نے گفتگو کا فریم نہایت وضاحت اور اصولیت کے ساتھ متعین کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وجودِ باری تعالیٰ جیسے مابعد الطبیعی (Metaphysical) موضوع پر تجرباتی، مشاہداتی یا وحی پر مبنی دلائل پیش نہیں کیے جائیں گے، کیونکہ خدا مادی اشیاء اور طبیعی قوانین کے دائرے میں نہیں آتا۔
"مافوق الفطرت ذات کو مادی آلات سے پرکھنے کی کوشش ایسا ہی ہے جیسے کسی مسئلے کے لیے غلط ٹول استعمال کیا جائے"
انہوں نے اعلان کیا کہ گفتگو مکمل طور پر عقل و منطق (Logic & Reasoning) کی بنیاد پر ہوگی۔ اس کے بعد انہوں نے فلسفۂ قدیم کی معروف دلیلِ سلمی سمیت متعدد عقلی دلائل پیش کیے، جو بحث کے دوران فیصلہ کن حیثیت اختیار کر گئے۔
علت و معلول کے تسلسل پر گفتگو کرتے ہوئے مفتی شمائل ندوی نے بنیادی سوال اٹھایا کہ اگر ہر شے کسی سبب کی محتاج ہے تو اس لامتناہی سلسلے کو کہیں نہ کہیں رکنا ہوگا۔
"مسلمان علت و معلول کے اس سلسلے کو خدا پر جا کر روکتے ہیں، مگر منکرینِ خدا یہ نہیں بتا پاتے کہ وہ اس سلسلے کو کہاں روکیں گے۔"
"جاوید اختر نے بارہا اس بات کو تسلیم کیا کہ کسی نہ کسی مقام پر اس تسلسل کی انتہا ہونی چاہیے، تاہم وہ یہ واضح کرنے میں ناکام رہے کہ وہ انتہا کیا یا کون ہے۔ اسی نکتے پر مفتی یاسر ندیم الواجدی کے سوال نے بھی بحث کو دوبارہ اسی بنیادی مسئلے پر لا کھڑا کیا، مگر جاوید اختر کوئی تشفی بخش جواب نہ دے سکے۔"
بحث کے دوران جاوید اختر کی گفتگو زیادہ تر جذباتی دلائل (Emotional Arguments) پر مشتمل رہی۔ انہوں نے دنیا میں ظلم، ناانصافی، عورتوں اور بچوں پر تشدد اور بالخصوص غزہ کے حالات کو بنیاد بنا کر خدا کے وجود اور اس کی رحمت پر سوالات اٹھائے۔
اس پر مفتی شمائل ندوی نے واضح کیا کہ غیر مادی مسئلے پر مادی مثالوں سے استدلال بذاتِ خود ایک فکری مغالطہ ہے۔
"انسانی اختیار کے تحت ہونے والے ظلم کو خدا کی عدم موجودگی کی دلیل بنانا منطقی طور پر درست نہیں۔"
انہوں نے کہا کہ انسان کو خیر و شر کے انتخاب کی آزادی دی گئی ہے اور ظلم کے انسداد کی ذمہ داری بھی انسان پر ہی عائد ہوتی ہے۔ خدا کی ہدایات سے انحراف کے نتائج کو خدا کے وجود کے انکار سے جوڑنا ایک فکری لغزش ہے۔
غزہ کے حوالے سے گفتگو کے دوران مفتی شمائل ندوی نے خدائی حکمت، مظلوم کے لیے آخرت میں اجر اور ظالم کے احتساب کا تصور پیش کیا۔ بعض ناظرین کے مطابق یہ جواب علمی لحاظ سے مضبوط تھا، اگرچہ عام سامعین کے لیے جذباتی پہلو زیادہ اثر انگیز ہو سکتا تھا۔
جاوید اختر کا یہ دعویٰ بھی زیرِ بحث آیا کہ تمام مذاہب سوال کرنے سے روکتے ہیں۔ اس پر مفتی شمائل ندوی نے نہایت صراحت کے ساتھ اسلام کا موقف واضح کیا۔
"اسلام سوال سے نہیں روکتا، بلکہ قرآن بار بار غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور کہتا ہے: فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ۔"
بحث کے آخری مرحلے میں اکثریت (Majority) کے تصور پر مفتی شمائل ندوی کے مدلل کاؤنٹر نے گفتگو کا رخ بدل دیا۔ اس نکتے پر جاوید اختر کے پاس کوئی واضح جواب نہ تھا اور وہ گفتگو سمیٹتے ہوئے نظر آئے۔
پروگرام کے اختتام پر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اس دن کو تاریخی قرار دیا اور جذباتی انداز میں مفتی شمائل ندوی کی پیشانی کا بوسہ لیا۔ بعد ازاں انہوں نے فیس بک پر لکھا:
"الأسلام یعلو ولا یُعلى علیہ — آج پھر مباحثۂ شاہجہاں پور ہوا۔"
"یہ منظر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا۔ نشست میں موجود ریتا چٹرجی، انشمن گائیکواڈ، پروفیسر منیش واجپئی اور دیگر لبرل دانشوروں نے غیر رسمی گفتگو میں اعتراف کیا کہ مفتی شمائل ندوی کے دلائل کے سامنے جاوید اختر کی گفتگو زیادہ تر سطحی اور جذباتی رہی۔ معروف صحافی آدتیہ مینن نے تبصرہ کیا کہ جاوید اختر نے اس بحث کو ایک سنجیدہ علمی مناظرہ سمجھنے کے بجائے غیر رسمی مجلس کے طور پر لیا۔"
للن ٹاپ کے یوٹیوب چینل پر اس مناظرے کے بعد ایک ناظر کے تبصرے نے بھی خاص توجہ حاصل کی۔
یہ مناظرہ اس اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ اس نے اس تاثر کو شدید دھچکا پہنچایا ہے کہ مدارس کے علما جدید فکری مباحث سے ناواقف ہوتے ہیں۔
"مفتی شمائل ندوی کی علمی تیاری، منطقی پختگی اور فکری اعتماد اس تصور کی کھلی تردید ہے۔"
واضح رہے کہ اس پروگرام کی میزبانی للن ٹاپ کے سوربھ دیویدی نے کی، جنہوں نے انتہائی منظم اور متوازن انداز میں اس تاریخی مباحثے کو انجام تک پہنچایا۔ یہ پروگرام للن ٹاپ، مفتی شمائل عبداللہ ندوی کے آفیشل چینل اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر براہِ راست نشر کیا گیا۔

0 تبصرے